Talash by Mumtaz Mufti

کتاب : تلاش

باب 4 : بڑی سرکار

ٹرانسکرپشن : عاصم عباسی

نیوٹن اور سیب


نیوٹن نے سیب کو گِرتے ہوئے دیکھا اور کشش کا بھید پا لیا۔ اس نے سیب کے گِرنے کے عمل کو دیکھا، سیب کو نہ دیکھا۔ سیب کو دیکھتا، تو دیکھتا کہ اتنے چھوٹے سے بیچ میں کیا کیا رکھ دیا گیا؟ ایک درخت، تنا، شاخیں، پتے، پھل۔
سیب کو دیکھتا تو دیکھتا کہ درخت پر پھل جب تک کچا ہوتا ہے، سبز رنگ کا ہوتا ہے۔ سبز پتوں میں چھپا رہتا ہے۔ جب پک جاتا ہے (کھانے کے قابل ہو جاتا ہے) تو رنگ بدل جاتا ہے، لال ہو جاتا ہے تاکہ نظر آئے۔ پھر وہ ہر راہ گیر کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتا ہے۔ آؤ توڑو، کھاؤ۔ میری غایت کھائے جانا ہے۔ میں انسان کی خوراک بنے کیلئے پیدا کیا گیا ہوں۔
قرآن کہتا ہے کہ لوگو! ہم نے یہ تمام قوتیں، نعمتیں تمھارے لیے بکھیر رکھی ہیں تاکہ تم انھیں مسخر کرو اور اپنے استمال میں لاؤ۔ یہ کائنات تمھارے لیے ہے۔ تم اشرف المخلوقات ہو۔ سبحان اللّہ! اللّہﷻ نے انسان کو کیا مقام دے رکھا ہے۔
کبھی کسی راہبر نے ہمیں آواز دے کر نہیں کہا کہ لوگو! ہوش کرو۔ کیا کر رہے ہو؟ اس شرف کا خیال کرو جو اللہ نے تمھیں دے رکھا ہے۔ صاحبو! مجھ سے تو جو راہبر ملتا ہے، یہی کہتا ہے کہ تم غلیظ ہو، گنہگار ہو، ناپاک ہو۔
سال میں ایک مرتبہ محلے کی مسجد میں چند بزرگ صورت اصحاب تشریف لاتے ہیں۔
وہ میرے گھر کا دروازہ بجاتے ہیں، میں باہر آتا ہوں تو کہتے ہیں: “بھائی صاحب آپ نماز پڑھا کریں۔”
“بہت بہتر جناب۔ ” میں جواب دیتا ہوں۔ “آپ بجا فرما رہے ہیں لیکن میں بھی آپ کی خدمت میں ایک عرض کرنا چاہتا ہوں۔”
وہ پوچھتے ہیں۔”جی فرمائیں!”
میں کہتا ہوں “عالی جاہ! نماز کی فرضیت بسر و چشم لیکن کبھی آ کر یہ بھی کہیے کہ پڑوسی سے اچھے تعلقات قائم کیجیے۔ محلے والوں کی خدمت کیجیے۔ کبھی کہیے کہ بانٹ کر کھایئے۔ بانٹ کر کھانے سے چیز حلال ہو جاتی ہے۔ عالی جاہ! کبھی کسی داڑھی والے کا دروازہ کھٹکھٹا کر پوچھئے، جناب! آپ نے جو داڑھی رکھی ہے، کیا آپ اس کی لاج پال رہے ہیں؟ آپ نے دکان کو مال سے بھر لیا ہے یا خالی دکان پر بورڈ لگا رکھا ہے؟”

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button